Minister or Mullah

<--

پاکستان، چین کی مدد کے بغیر جوہری قوت نہیں بن سکتا تھا!“ یہ بات سرکردہ امریکی سینیٹر جناب جم ویب کے ساتھ منسوب کر دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ کہا؟ یا، نہیں؟ یہ ایک الگ اور بحث طلب موضوع ہے، البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ سینیٹر جان کیری کے دورہ پاکستان کے فوراً بعد پاکستانی وزیراعظم، چین کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے تھے! یہ ’عمل‘ اس امر کا ’ناقابلِ تردید‘ ثبوت ہے کہ چین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ روابط موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ امریکہ سمیت تمام عالمی برادری، عالمی معاملات میں م ¶ثر کردار ادا کرنے کے لئے چین کی حوصلہ افزائی کرے!

البتہ یہ بات بالکل درست ہے کہ ’امریکی کانگریس کی خصوصی کمیٹی‘ نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ خصوصی کمیٹی کو اس حقیقت سے آگاہ رکھے کہ پاکستان کے لئے مہیا کی گئی امدادی رقم پاکستان کس کس ’مد‘ میں کہاں کہاں خرچ کر رہا ہے؟ خصوصی کمیٹی نے پاکستان کے لئے فراہم کی گئی امدادی رقم میں سے 25 فیصد رقم فوری طور پر جاری کر دینے کی اجازت دیتے ہوئے بقایا 75 فیصد رقم روک لینے کی بھی سفارش کر دی ہے اور اس بقایا رقم کا اجرا اس امر سے مشروط کر دیا ہے کہ اوباما انتظامیہ تصدیق کرے کہ جاری شدہ رقوم انہی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کی جا رہی ہیں، جن مقاصد کے حصول کے لئے انہیں جاری کیا جا رہا ہے!

بلی آہستہ آہستہ تھیلے سے باہر آ رہی ہے! ابھی تک یہ ’اخراج: ‘EXIT کا بورڈ آویزاں ہو جانے کے انتظار میں تھی! اب ’کھٹ پٹ‘ نے اسے بورڈ مہیا ہو جانے اور اس بورڈ کے آویزاں کر دیئے جانے کے ’عمل‘ میں تاخیر بے کل رکھّے ہوئے ہے! ادھر تھیلے کا منہ دوبارہ بند کر دیئے جانے اور پتھروں کے ساتھ ’تہ نشیں‘ کر دیئے جانے کا خوف الگ منہ پھاڑے کھڑا ہے!

’مطلق العنان بدعنوان دنیا‘ کی ’مطلق العنان سربراہی‘ کا تاج امریکہ نے اپنے سر پر اپنے ہاتھوں آپ سجایا۔ دنیابھر کے ’مطلق العنان حکمران‘ اس کی پشت پناہی اور اس کے فراہم کردہ ’وزرائے خزانہ‘ کے ذریعے ’بدعنوانی کے طریقے‘ سکھاتے سکھاتے، انہیں ’مطلق العنانی کے بھا ¶‘ اور ’بدعنوانی کے سبھا ¶‘ سکھانے لگے حتیٰ کہ وہ پتلیوں کی طرح ان کے اشارہ ابرو پر رقص دکھلانے میں بھی ’ماہر‘ قرار پا گئے! اس فن میں طاق ہوتے ہی وہ دنیا ’تخلیق‘ ہو گئی، جس کی حکمرانی کا تاج جناب جارج بش سر پر سجائے اس دنیا میں تشریف لائے تھے! اب اس دنیا میں ’تجارت‘ کے بل پر اِدھر کا مال اُدھر ہونا شروع ہی ہوا تھا کہ ’جنگ‘ کے بل پر بینکوں اور انشورنس کے اداروں نے اتنا مال کما کر دکھایا کہ ’تجارت‘ کا منافع محض مونگ پھلی کے چار دانوں کے برابر لگنے لگا! اب ’تجارت‘ وہ کام دکھا رہی ہے کہ ’جنگ‘ اُس منافع خوری کے سامنے تیل بیچتی دکھائی دے رہی ہے!

اب یُوں ہے کہ بات ’تجارت‘ کے سہارے چلے ’یا‘ ’دہشت پر جنگ‘ کے دھارے چلے، تیل کے سوداگروں کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے! رہی سہی کسر ہمارے ’بدعنوانی‘ اور ’مطلق العنانی‘ کے جڑواں میناروں کی سربلندی نے پوری کر دی! پیٹرول ہے مگر مل نہیں رہا، آٹا ہے مگر مل نہیں رہا، چینی ہے مگر مل نہیں رہی، پھول ہیں مگر کھل نہیں رہے! میرے مولا یہ کیا ہو رہا ہے؟

دیکھنے کی بات صرف یہ رہ گئی ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آتے ہی کیا کرے گی؟ ایک محفوظ اوٹ کے پیچھے جا چھپے گی، یا، محفوظ اوٹ چل کر اس تک پہنچ جائے گی؟ ہمارا کیا ہے اے بھائی؟ نہ مسٹر ہیں نہ مولانا! اُنہیں دیکھیں تو پوچھ بیٹھتے ہیں: منسٹر ہیں؟ کہ مولانا؟

About this publication