امریکہ اور افغانستان کے درمیان 28 گھنٹے سے زائد کے طویل مذاکرات کے بعد بھی سکیورٹی معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ انخلاءکے بعد افغانستان میں رہ جانیوالی فوج کو آپریشن، یکطرفہ چھاپہ مار کارروائیوں کے اختیارات دئیے جائیں۔ کسی بھی کارروائی کے بعد افغان عدالتی کارروائی سے بھی اسے استثنیٰ ملنا چاہئے۔ حامد کرزئی انتظامیہ امریکی فوجیوں کو استثنیٰ دینے کے حوالے سے اپنے موقف پر ڈٹ گئی۔اس کا کہنا ہے کہ امریکہ معاہدہ کے تحت کسی بھی وقت بغیر اجازت کے آپریشن کے اختیارات چاہتا ہے جو افغان عوام اور حکومت دونوں کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ حامد کرزئی کی حکومت نہ صرف کمزور ہے بلکہ وہ مکمل طور پر امریکہ کے رحم و کرم پر ہے۔ اسکے باوجود اس نے ایک قومی معاملے پر اصولی سٹینڈ لیا۔
امریکہ نے 2014ءمیں افغانستان سے انخلا کا وعدہ کیا تھا تاہم اس نے افغان حکومت سے ایک معاہدے کے تحت 2014ءکے بعد بھی ہزاروں فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی کی منظوری حاصل کرلی۔ افغان حکومت نے اسکی منظوری شاید طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے خوف سے دیدی ہو۔
اگر کرزئی کو اپنے وطن سے پیار ہے تو وہ افغانستان اور خطے میں پائیدار امن کیلئے غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلا کو یقینی بنائیں۔
امریکہ کو حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اگلے سال وعدے کے مطابق افغانستان سے مکمل انخلا کر دینا چاہئے۔ افغانستان میں رہ جانے والے اسکے دس بارہ ہزار فوجی افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کے بجائے خود غیر محفوظ ہونگے۔
بہرکیف حامد کرزئی نے جس طرح امریکہ کی ہر بات ماننے کے تاثر کو زائل کیا ہے یہ امر ہمارے حکمرانوں کیلئے ایک سبق ہونا چاہئے کہ ایک خود مختار ملک ہونے کے باوجود ٹھوس اور مضبوط خارجہ پالیسی بنانے سے قاصر ہیں اور ابھی تک ڈرون حملے بند نہیں کرا سکے جو ہماری خود مختاری، سالمیت اور وقار کو روند رہے ہیں۔
Leave a Reply
You must be logged in to post a comment.